19 فروری 2011 - 20:30

آیت اللہ آصفی نے بحرین میں رونما ہونے والے واقعات اور عوام کے دھرنے کو کچلنے کے سرکاری اقدام کی مذمت کرتے ہوئے شیعیان عالم سے بحرین کے مظلوم عوام کے لئے دعا کرنے کی اپیل کی ہے اور بحرین کے واقعات کو حکومت کی نا انصافی قرار دی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نجف اشرف میں مقیم عالم دین آیت اللہ محمد مہدی آصفی نے اپنے بیان میں بحرین میں رونما ہونے والے واقعات اور حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال اور تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

بیان کا متن:

بسم الله االرحمن الرحیم

قوم کے عظیم طبقے ان ایام میں منامہ اور دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں کے میدانوں اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور وہ بحرین پر مسلط خاندان کے خودسرانہ اور آمرانہ اقدامات پر مظاہروں اور دھرنوں کی صورت میں احتجاج کررہے ہیں۔ اور پولیس اور سیکورٹی فورسز نہایت درندگی اور وحشیانہ انداز سے نوجوانوں کا قلع قمع کررہی ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی ان کی تصویریں نشر ہورہی ہیں۔ سرکاری فورسز کے غیرانسانی اقدام کے نتیجے میں پہلے دن شہید علی المشیمع اور شہید فاضل المتروک رحمةاللہ علیہما، کی شہادت واقع ہوئی اور کئی افراد زخمی ہوئے اور دوسری روز بھی چار افراد شہید ہوئے اللہ کی رحمت ہو ان پر۔ اس وقت بحرین کی جیلیں بحرین کے بہترین نوجوانوں سے بھری پڑی ہیں جن سے بحرینی نظام حکومت نے ان کی آزادی اور ان کا مستقبل چھین لیا ہے اور ان کو اپنے خاندانوں کے ساتھ زندگی گذارنے سے محروم کردیا ہے صرف اس لئے کہ انھوں نے بحرین کی شیعہ اکثریت کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے، شہری حقوق کو یقینی بنانے، سیاسی حقوق عطا کرنے اور اپنی قوم کے ساتھ ظلم و ستم اور حکومت کی بدعنوانیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور حکومت وقت نے بحرین کے علماء، ثقافتی شخصیات اور بحرینی عوام کے تمام مطالبات کو طاقت استعمال کرکے اور لوگوں کی زبان بند کرکے دبانے کی کوشش کی ہے اور کئی سالوں پر محیط سرکاری دباؤ اور بدسلوکی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے جن پر اللہ تعالی کی رحمت ہو کیونکہ وہ اپنے وطن اور اپنے خاندان کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ اور حکومت بحرین نے علماء اور سیاسی اور علمی شخصیات اور دانشوروں کی بڑی تعداد کو گرفتار کرکے ان سے جیلخانے بھر دیئے اور انہیں اپنے خاندانوں سے دور کردیا، ان سے آزادی چھین لی، ان کا مستقبل چھین لیا اور ان ہی میں آیت اللہ المجاہد الشیخ عبدالاامیر الجمری (رحمہ اللہ) بھی تھے جو بحرینی حکومت کے اذیتکدوں میں طویل عرصے تک آزار و اذیت اور ٹارچر جھیلنے کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ اور آج بحرینی قوم کی عظیم جمعیتیں پرامن اور مدنی (civilized) ریلیوں، مظاہروں اور دھرنوں کی صورت میں دارالحکومت کے چوراہوں میں اکٹھے ہوئے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کے اداروں میں بھرتیوں، شہری حقوق، جامعات میں تعلیمی سہولیات، سرکاری اور فوجی اور سیکورٹی اداروں میں بھرتیوں،  کے حوالے سے امتیازی رویئے ختم کئے جائیں، وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ منظم انداز اور منصوبہ بندی کے ساتھ ان کی آبادی کم کرنے کی غرض سے بیرونی ملکوں سے آئے ہوئے افراد کو شہریت دینے کی پالیسی منسوخ کی جائے، آئین میں ـ جو بادشاہ اور اس کے خاندان کے افراد کو امتیازی اختیارات دیتا ہے اور عوام کو سیاسی عمل میں شراکت سے مکمل طور پر محروم کرتا ہے ـ میں ترمیم کی جائے، اور بادشاہ کے چچا، وزیراعظم کو برطرف کیا جائے جس کا ملک میں جاری بدعنوانیوں اور بیرونی ملکوں کے افراد کو ظالمانہ انداز سے شہریت دینے اور انہیں بحرینی عوام پر ترجیح دینے میں سب سے بڑا کردار ہے؛ ان کا مطالبہ ہے کہ ان نوجوان قیدیوں کو جیلوں سے رہا کیا جائے جن سے بحرین پر مسلط بادشاہی نظام نے کسی جرم و گناہ کے بغیر ان کی آزادی، مستقبل، خاندانوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے جیسے مسلمہ اور فطری حقوق سے محروم کیا اور ان کا واحد جرم یہی ہے کہ وہ اپنی قوم اور اپنے خاندانوں کے لئے عادلانہ انداز سے شہری حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔  بحرینی قوم اپنی مظلومیت کی صدا اور اپنا استغاثہ بین الاقوامی اداروں اور سوسائٹیوں تک پہنچارہی ہے جنہوں نے طویل عرصے سے بحرین میں عدل و انصاف کی صورت حال کا مشاہدہ بھی کیا ہے اور بحرینی حکومت سے احتجاج بھی کیا ہے اور بحرینی حکام سے امتیازی سلوک اور عوام کو فرقہ واریت کی بنیاد پر کچلنے کی پالیسی ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔  نیز بحرینی معاشرہ دنیا کے مسلمانوں کو بھی اپنی مظلومیت کی صدا پہنچارہا ہے کہ ان کے منصفانہ مطالبات میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کریں اور ان کی حمایت کریں اور ان کی تصدیق و تأئید کریں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ: من أصبح ولم يهتم بأمور المسلمين فليس منهم، ومن سمع رجلاً ينادي يا للمسلمين فلم يجبه فليس بمسلم = جس نے رات گذار کر صبح کی اور امور مسلمین کے لئے کوئی اہتمام نہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور آپ (ص) نے فرمایا: جس نے کسی شخص کو سنا جو مسلمانوں سے مدد طلب کررہا ہے اور اس نے اس کا جواب نہ دیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور بحرینی عوام، حکومت کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ عوام کے مطالبات کے سامنے طاقت کے استعمال اور دہشت گردی اور تشدد سے اجتناب کرے اور ان کے ساتھ پرامن انداز سے بات چیت کرے اور مہربانی کے ساتھ پیش آئے اور لوگوں کے شہری حقوق کا پاس رکھے اور قوم کے تمام طبقوں کے ساتھ امتیازی رویوں اور اذیت و آزار اور سرکوبی کی روش ترک کرکے پیش آئے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس مظلوم اور پسی ہوئی اور کچلی ہوئی قوم کی مدد و نصرت فرمائے اور اپنی حمایت و عنایت کے سائے میں انہیں ظالموں کی ظلم سے محفوظ رکھے۔

محمد مهدي الآصفيالنجف الأشرف14 ربيع الأول 1432ہـ